ممبئی:13/اپریل(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) آم کھانے کے شوقین لوگوں کے لئے یہ خبر بے چین کرنے والی ہے کہ ان دنوں ممبئی میں زہریلا آم فروخت ہو رہا ہے۔ خبر ہے کہ کیمیکل سے پکایا گیا عام بڑی تعداد میں مارکیٹ میں پہنچ چکا ہے لیکن عام کے شوقین اس سے واقف نہیں ہیں۔ ان کے لئے عام پیلا رنگ ہی کافی ہے، اگرچہ ان کے لئے بھی کیمیکل سے پکا آم اور درخت پر پکے آم میں فرق کرنا مشکل ہے۔وہیں خریداروں کو کیمیکل کے ذریعہ آم پکانے کی مکمل معلومات ہے، مگر منافع کے چکر میں دکاندار خاموش ہیں۔ دراصل ممبئی کے ملنڈ علاقے میں ایک گودام میں آم کو انجکشن لگا کر اسے جلدی پکانے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خبر کے مطابق وہاں آم میں انجکشن لگایا جاتا ہے۔ اس انجکشن میں اتھیلین نام کا کیمیکل بھرا ہوا ہے جو آم کو فوری پکنے میں مدد کرتا ہے۔ انجکشن کے بعد آم کو ایک ڈرم میں ڈالا جاتا ہے جس میں دوسرا کیمیکل بھرا ہوا ہوتا ہے، اس کے بعد سارے آموں ایک پٹا میں رکھ کر پکنے کے لئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ دعوی ہے کہ اس کیمیکل کے ذریعہ آم 48 گھنٹے میں پک کر تیار ہو جاتا ہے لیکن حیران کرنے والی بات یہ ہے کہ کیمیکل سے پکایا گیا یہ آم انسان کے لئے زہر سے کم نہیں ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق کیمیکل سے پکایا آم کھانے سے کئی بیماریاں ہو سکتی ہیں۔ اس سے آنکھوں کی روشنی تک جا سکتی ہے۔ ڈاکٹر کا کہنا ہے کہ عام آدمی کیمیکل سے پکے آم اور درخت پر پکی آم میں فرق نہیں کر سکتا، جس کا فائدہ کچھ تاجر بخوبی اٹھا رہے ہیں۔